تازہ ترین

ایرانی اکانومی کا 90 فیصد کنٹرول کرنیوالی ملک کی ریڑھ کی ہڈی خارگ جزیرے پر ٹرمپ کی نظر

خارگ آئی لینڈ تک پہنچنے کیلئے امریکی فوجیوں کو سب سے پہلے ہرموز سٹریٹ پہ ایک بہت بڑی جہنم کا سامنا کر کے ہی پھر آگے خارگ جزیرے تک پہنچنے میں کامیابی حاصل کر سکے گا اور ہرموز سٹریٹ سے لیکر خارگ جزیرے کے درمیان فاصلے کو طے کرنے کے دوران امریکہ ہرموز سٹریٹ میں پہلے ایرانی فورسز اور اینٹی ائرکرافٹ میزائلز اور گن بوٹس ہر طرف پھیلی ہوئی ایمفبئیس بوٹس انکے گن فائر اور پوری پٹی پر گراونڈ پر لگے اینٹی ائرکرافٹ سسٹمز کا سامنے کر کے بچتے ہوئے کیسے خارگ جزیرے تک پہنچ سکے گا، یہ سب سے بڑا سوالیہ نشان ہے۔

ایک ماہ پہلے امریکہ اس جزیرے پہ پہلے ہی ملٹری ٹارگٹس پہ فضائی حملہ کر چکا ہے لیکن اسوقت تک ایرانی نیوی کیساتھ چینی نیوی نے اسی ایریا کے آس پاس نیول ایکسر سائزز کر کے امریکہ کو یہ باور نہیں کروایا تھا کہ چینی نیوی بھی ایران کیساتھ ہے کیونکہ ایران سے چین کو بھی تیل وہیں سے جاتا ہے۔

پلس اب تو اسرائیل نے بھی روسی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کر کے پیوٹن کو غصہ چڑھا کے اپنے پاؤں پہ کلہاڑا مار دیا ہے اب جہاں پہلے صرف ایرانی میزائلز تل ابیب کو ہٹ کیا کرتے تھے اب روس مزید اکٹولی اپنا بدلہ لینے کیلئے اس جنگ میں بھرپور شرکت کر کے امریکہ اسرائیل کی تباہی کرنے کیلئے مدد ایران کو فراہم کرے گا۔ بڑھکیں مارنا آسان ہوتا ہے لیکن یہ بھی ہو سکتا ہے کہ امریکی جنگی طیاروں کا سسٹم سافٹ وئیر فیل ہو جائے اور ایرانی سافٹ وئیر اپڈیٹ کرتے کرتے اس کا اپنا سافٹ وئیر بھی اپڈیٹ ہو جائے پلس اپنے 5 ہزار انتہائی قابل تجربہ کار کمانڈوز اور میرینز کی قربانی بھی بغیر کوئی لانگ ٹرم گول اچیو کئے ٹرمپ اپنی جہالت سے ضائع کروا دے جس سے امریکی فوج میں مزید پھوٹ پڑے اور انہیں ٹرمپ حکومت کا تختہ الٹنے کیلئے کوئی ایکشن لینا پڑے۔عوام پہلے ہی ٹرمپ کی پالسیوں کیخلاف ہے۔

اگر باقی ماندہ جنگی طیارے ہرمز سٹریٹ کی اینٹی ائرکرافٹ گنوں اور شولڈر لانچڈ اینٹی ائرکرافٹ میزائلز سے لیس پاسداران انقلاب کے زمینی یونٹس کے میزائل دفاعی نظام سے بچ بھی گئے پھر بھی خارگ میں مزید ایسی اینٹی ائرکرافٹ اور گراونڈ ڈیفنس ایرانی فوج کے یونٹس کا سامنا مزید ایمفبئیس گن بوٹس کے پھیلے ہوئے اینٹی ائرکرافٹ یونٹس کے سمندری جال کو پار کر کے کرنا پڑے گا جو ہوا سے پیراشوٹ سے چھلانگ لگانے میں کامیاب ہو بھی گئے وہ ہوا مین ہی زمین سے اڑا دیے جائیں گے۔ نیز یہ فیصلہ امریکہ کیلئے سیدھی سیدھی خود کشی اور پاؤں پہ کلہاڑا مار کے اپنی ٹاپ تجربہ کار ملٹری کریم ضائع کروانے والا فیصلہ ہے۔

اس دوران ایران کی 90 فیصد معاشیت تیل کے حب خارگ جزیرے پر حملے کر کے اسے مکمل تباہ کرنے کی امریکی پالیسی سے خلیجی ممالک بھی خود پر مزید ایرانی تباہ کن حملوں کے خوف سے اتفاق نہیں کر رہے اور اپنی سر زمین ایران کیخلاف استعمال کرنے کی اجازت دینے کو تیار نہیں۔ اندر اندر سے پمپ جتنا مرضی امریکہ کو کروا لیں لیکن وہ یہ جانتے ہیں کہ اگر اپنی مٹی اور سر زمین سے کوئی امریکی طیارہ ایرانی خارگ جزیرے پر سٹرائیک کرنے کیلئے اڑا تو جوابی حملہ اور ایران کا جواب کتنا شدید اور گلف ممالک کیلئے بھی تباہ کن ہو گا۔ جو ان کی معیشیت اور ٹورزم سیکتر کے بھی انٹرسٹ میں نہیں جسے سٹرانگ کرنے کیلئے دہائیاں لگا لگا کے جدید بلڈنگز اور ٹیکنالوجی کے ایمپائر کھڑے کئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *