اسلام آباد کے معروف کاروباری شخصیت عامر اعوان کو ان کے نجی فارم ہاؤس میں اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ اپنے بیڈ روم میں موجود تھے۔
سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق، 5 مسلح افراد کلاشنکوفوں اور جدید اسلحے کے ساتھ فارم ہاؤس کی پچھلی دیوار پھلانگ کر اندر داخل ہوئے۔
حملہ آوروں نے سیدھا عامر اعوان کے بیڈ روم کا رخ کیا اور ان پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔
وہ شدید زخمی ہوئے اور ہسپتال منتقل کرتے ہوئے راستے میں دم توڑ گئے۔
عامر اعوان کا شمار اسلام آباد کے معتبر تاجروں میں ہوتا تھا۔
وہ Toyota Islamabad Motors کے مالک تھے اور کاروباری حلقوں میں اپنی شرافت اور محنت کی وجہ سے پہچانے جاتے تھے۔
پسماندگان میں ان کی اہلیہ اور تین معصوم بچے (دو بیٹے اور ایک بیٹی) شامل ہیں۔
واقعے کے وقت ان کی اہلیہ اور بچے گھر میں ہی موجود تھے، جو اس خوفناک منظر کے چشم دید گواہ ہیں، تاہم وہ محفوظ رہے۔
اہم سوالات جو اس واقعے کو مشکوک بناتے ہیں:
فارم ہاؤس پر سیکیورٹی گارڈز موجود تھے، پھر بھی حملہ آور اندر کیسے داخل ہوئے؟
ملزمان کا سیدھا بیڈ روم تک پہنچنا ظاہر کرتا ہے کہ انہیں گھر کا مکمل نقشہ معلوم تھا۔
گھر کے دیگر افراد یا حصوں کو نظر انداز کر کے صرف ایک شخص کو نشانہ بنانا۔
کسی بڑی چوری یا مالی نقصان کا ثبوت نہ ملنا۔
ابتدائی طور پر اسے ڈکیتی قرار دیا گیا، لیکن شواہد واضح طور پر اسے ٹارگٹ کلنگ کی طرف لے جاتے ہیں۔
جس انداز میں ریکی کی گئی اور کلاشنکوف کا استعمال ہوا، یہ کسی پیشہ ور گروہ کی کارروائی معلوم ہوتی ہے۔
مقتول کی اہلیہ کی مدعیت میں تھانہ شہزاد ٹاؤن میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
پولیس کی سی آئی اے اور انویسٹیگیشن ٹیمیں سی سی ٹی وی فوٹیج اور جیو فینسنگ کی مدد سے ملزمان تک پہنچنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
گارڈز اور فارم ہاؤس کے ملازمین سے بھی سخت پوچھ گچھ جاری ہے۔
اسلام آباد کی تاجر برادری نے شدید احتجاج کرتے ہوئے حکومت سے فوری گرفتاری اور امن و امان کی بہتری کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ واقعہ صرف ایک جرم نہیں…
بلکہ ایک سوچی سمجھی سازش معلوم ہوتا ہے۔
عامر اعوان کا قتل ایک ہنستے بستے گھر کو اجاڑ گیا
اور دارالحکومت کی سیکیورٹی پر کئی سوالیہ نشان چھوڑ گیا۔
اب سب کی نظریں پولیس کی حتمی رپورٹ پر ہیں…
