Skip to content
واشنگٹن: (چھان بین پاکستان ) سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف جارحانہ جنگی پالیسی نے نہ صرف مشرق وسطیٰ کو کشیدگی کی لپیٹ میں لے لیا ہے بلکہ امریکی توانائی کے عالمی غلبے کے خواب کو بھی شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے بلوم برگ کی تازہ رپورٹ کے مطابق ایران کے ساتھ جاری تنازع نے تیل کی صنعت میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر دی ہے، جس کے باعث عالمی منڈیوں میں افراتفری دیکھنے میں آ رہی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جنگی ماحول کے باعث مشرق وسطیٰ میں تیل کے بڑے منصوبے تعطل کا شکار ہو چکے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ آئل کمپنیوں نے خطے میں بیرونی سرمایہ کاری کے کئی منصوبے مؤخر یا منسوخ کر دیے ہیں۔ اس صورتحال نے نہ صرف عالمی توانائی کی سپلائی چین کو متاثر کیا ہے بلکہ قیمتوں میں بھی غیر معمولی اتار چڑھاؤ پیدا کر دیا ہے۔
ادھر امریکہ کے اندر بھی تیل کی پیداوار میں مسلسل کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے، جس نے ٹرمپ انتظامیہ کی معاشی پالیسیوں پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ ماہرین کے مطابق توانائی کے شعبے میں خود کفالت حاصل کرنے کا ہدف اب پہلے سے زیادہ مشکل دکھائی دے رہا ہے، جبکہ بڑھتی ہوئی کشیدگی اس راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکی ہے۔