Uncategorized

میرے جموں کشمیر کے درد۔

۔

زیر نظر تصویر راجہ لیاقت علی خان کی ہے جو آج انڈین مقبوضہ کشمیر میں وفات پا گئے۔اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّاۤ اِلَیۡہِ رَاجِعُوۡنَ
مگر اس موت سے بھی بڑا دکھ یہ ہے 1989 میں جب پورا خاندان ہجرت کر کے پاکستانی مقبوضہ جموں کشمیر کی طرف آ گیا تو راجہ لیاقت علی خان انڈیا مقبوضہ کشمیر میں اکیلے رہ گئے۔شاید سوچا ہوگا کیا پتا ہم آزاد ہو جاہیں گے اور اپنے خاندان سے ملوں گا۔مگر افسوس وہ آزادی کبھی نہ آئی۔سینتیس سال اپنوں کے ہوتے ہوئے اکیلے جیتے رہے۔سینتیس سال انتظار کرتے رہے۔سینتیس سال ایک ایسی سرحد کے قیدی رہےجو نہ لوہے کی تھی، نہ پتھر کی مگر پھر بھی توڑنے سے نہ ٹوٹی۔اور پھر آج وہ لمحہ آیا جس سے ہر انسان ایک نہ ایک دن گزرتا ہے۔آج سرینگر کے ہسپتال میں لیاقت علی خان کی آنکھیں بند ہو گئی پاس کوئی نہ تھا۔کوئی اپنا ہاتھ تھامنے والا نہ تھا۔کوئی ماتھا چومنے والا نہ تھا۔کوئی آنسو پونچھنے والا نہ تھا۔جو سینتیس سال اکیلے جیئے وہ اکیلے ہی چلے گئے۔مگر اس سب سے بڑا ظلم ابھی باقی تھا یہ تصویر جو دیکھنے والوں کا کلیجہ چیر دیتی ہے۔جنازہ دریا کے ایک کنارے رکھا ہے۔اور دوسرے کنارے پر انکا خاندان بھائی، بہنیں، جو سینتیس سال سے ملنے کو ترس رہے تھے وہ کھڑے ہیں۔نہ زندگی میں گلے لگ سکے،نہ مرنے کے بعد آخری دیدار نصیب ہوا۔بس دریا کے پار سے پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھتے رہے۔یہ میرےکشمیر کے درد ہیں یہ میرے کشمیر کی کہانی ہے یہاں زندگیاں آدھی گزرتی ہیں،محبتیں ادھوری رہتی ہیں، اور قبریں بھی اپنوں سے دور ہوتی ہیں۔ اے راجہ لیاقت میں آپکو آج اتنا کہوں گا کہ دنیا نے تجھ سے سب چھین لیا۔تیرے اپنے تیرے پاس نہ آ سکے،نہ جیتے جی، نہ مرنے کے بعد۔مگر آج تو اُس رب کے پاس ہےجہاں کوئی سرحد نہیں،کوئی لائن آف کنٹرول (خونی لکیر) نہیں،کوئی دریا نہیں جو جدا کرے، کوئی ظلم نہیں جو روکے۔آپکو وہاں وہ ملاپ نصیب ہو جو اس ظالم دنیا نے سینتیس سال چھینے رکھا ۔اللہ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور اس بکھرے ہوئے خاندان کو صبرِ جمیل نصیب کرےجو آج دریا کے کنارے کھڑااپنے جگر کے ٹکڑے کو دور سے الوداع کہہ رہا ہے۔یا اللہ اس مظلوم دھرتی کشمیر کو آزادی نصیب فرما۔
ان معصوم لوگوں کی آہیں اور آنسو قبول فرما۔جو ظالم اس سرزمین پر قابض ہیں انہیں اپنی پکڑ میں لے لے،کیونکہ تو ہی ظالموں کو غرق کرنے والا ہے،تو ہی مظلوموں کا مددگار ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *